عام انتخابات سے قبل صوبہ ہزارہ کے قیام کا امکان

ٹیگز

, , , , , , , ,


خیبر پختونخوا کے ’ہزارہ ڈویژن‘ کو الگ صوبہ بنانے کی تحریک ’سیاسی جماعت‘ میں ڈھل چکی ہے‘ جس کے قائدین اور کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کریں گے‘ جس سے الگ صوبہ کے قیام کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ ملک گیر سطح پر انتخابات کی باقاعدہ تیاریاں ’پاکستان تحریک انصاف‘ جبکہ کسی ضلع کی سطح پر باقاعدہ تیاریاں اِسی جماعت نے شروع کر رکھی ہیں جن کا منشور ’’حقوق و شناخت کے تحفظ کے لئے پرامن جدوجہد‘‘ ہے اور اِسی پیغام کو عام کرنے کے لئے ’تحریک صوبہ ہزارہ‘ کی رکن سازی مہم بائیس جولائی سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں ایبٹ آباد کینٹ بازار (کینٹ پولیس اسٹیشن کے قریب) چوک میں ’رکنیت سازی کیمپ‘ لگایا گیا ہے‘ جہاں پہلے ایک ہفتہ کے دوران کم و بیش بائیس ہزار افراد نے تحریک سے وفاداری کا عہد کرتے ہوئے بلاقیمت رکنیت حاصل کی۔

رکنیت سازی کی یہ مہم ایبٹ آباد کے بعد مانسہرہ میں بھی شروع کر دی گئی ہے اور اس سلسلے میں ’تحریک صوبہ ہزارہ‘ کے زیراہتمام اکتیس جولائی کے روز مانسہرہ میں ایک روزہ خصوصی کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا‘ جس کے شرکاء نے متفقہ طور پر حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’ہزارہ ڈویژن‘ کو ’ایگزیکٹو آڈر‘ کے ذریعے الگ صوبہ بنانے کا اعلان کیا جائے۔ کانفرنس میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اراکین کے علاؤہ ہزارہ کے وکلأ اور تاجر تنظیموں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ کانفرنس میں شریک بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (قاف) تھی‘ جس کے بارے میں عمومی رائے یہی ہے کہ وہ ’تحریک صوبہ ہزارہ‘ سے سیاسی فائدہ لینے کے لئے اِس جماعت کے اراکین پیش پیش ہیں اور وہ ہزارہ ڈویژن میں ’پاکستان مسلم لیگ نون‘ کے خلاف انتخابی کامیابیاں حاصل کرنے کے لئے تحریک کے ساتھ شروع دن سے رشتہ جوڑے ہوئے ہیں۔ کانفرنس سے خطاب کرنے والی معروف شخصیات میں سابق وفاقی وزیر سردار محمد یوسف‘ سیّد قاسم شاہ اور امان اللہ خان‘ سابق صوبائی وزراء طارق خان سواتی اور شہزادہ گستاسپ خان‘ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر طاہر سرفراز عباسی اور نعیم خان سواتی شامل تھے۔ مقررین نے قیام پاکستان میں ’ہزارہ‘ کے عوام کی قربانیوں کا حق ادا کرنے کے لئے الگ صوبہ کے قیام کا مطالبہ دہرایا۔ مقررین نے کہا کہ ’’وفاقی حکومت نے ایگزیکٹو آڈر کے ذریعے گلگت بلتستان کو الگ صوبہ بنایا اور ہزارہ کے عوام بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ اُن کے لئے الگ صوبہ ایگزیکٹو آڈر ہی کے تحت بنایا جائے۔‘‘ مقررین نے ملک کی معاشی و اقتصادی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’صوبہ ہزارہ‘ کا قیام عوام کے مسائل کی حل کی راہ میں اہم پیش رفت ثابت ہو گی اور اس سے کم مالی وسائل رکھنے والے طبقات کی محرومی کا ازالہ ہو گا۔‘‘ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کے مشیر سید قاسم شاہ نے کہا کہ ’’وہ وقت دور نہیں جب ہزارہ کے عوام کے لئے الگ صوبہ قائم ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’صدر اور وزیراعظم ہزارہ کو الگ صوبہ کا درجہ دینے کے لئے رضامند ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ قاف سے ایک معاہدہ بھی کیا گیا ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل ہزارہ ڈویژن کو الگ صوبہ کا درجہ دے دیا جائے گا۔‘‘ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قائد تحریک سردار حیدر زمان نے کہا کہ ’’عوام کے اصرار پر تحریک صوبہ ہزارہ بطور سیاسی جماعت رجسٹر کرائی گئی ہے اور وہ ہر اُس سیاسی جماعت کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں‘ جو اُن کے مقصد کی تکمیل کے لئے جدوجہد کرے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’تحریک صوبہ ہزارہ کا آغاز ذاتی مقاصد کے لئے نہیں کیا گیا بلکہ یہ وسیع تر اور اجتماعی مفاد کی تحریک ہے اور یہی وجہ ہے کہ تحریک سے وابستہ عہدیدار آئندہ عام انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے بلکہ تحریک عام کارکنوں کو انتخابات میں نامزد کرے گی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’وزیراعظم سرائیکی صوبے کے ساتھ ہزارہ صوبہ کی بات بھی کریں کیونکہ اگر سرائیکی صوبہ بنایا گیا اور ہزارہ کے عوام کی آواز کو نہ سنا گیا تو یہ وزیراعظم کی جانب سے ہزارہ کے عوام کے ساتھ امتیازی سلوک ہو گا۔‘‘

تحریک صوبہ ہزارہ کی ’رکنیت فارم‘ پر خواہشمند کا نام‘ ولدیت‘ قومی شناختی کارڈ نمبر‘ گھر کا پتہ‘ خون کا گروپ‘ اِی میل (برقی خط و کتابت کا پتہ) ایڈریس اور ایک انتہائی سادہ سوال جس کا جواب ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ کے علاؤہ نہیں دیا جا سکتا کہ ’’کیا رکنیت حاصل کرنے کے بعد آپ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کو تیار ہیں۔‘‘ باالفاظ دیگر رکنیت سازی مہم ایک طرح کا ریفرنڈم بھی ہے جس میں معلوم مقصد کے تحت سیاسی عمل میں شرکت کی بابت پوچھا جاتا ہے۔ رکنیت فارم بھرنے والے عمومی طور اس کا جواب بناء پوچھے ’ہاں‘ میں لکھ دیتے ہیں‘ تاہم خوش آئند ہے کہ ملک کی کسی سیاسی جماعت کی طرف سے اپنے کارکنوں کے بنیادی کوائف جمع کرنے کے ساتھ سیاسی عمل سے متعلق اُن کی مرضی بھی پوچھی جا رہی ہے۔ ’تحریک صوبہ ہزارہ‘ کے کارکنوں پر واضح نہیں کہ اُن کے ’خون کا گروپ‘ اور ’سیاسی عمل میں شرکت داری سے متعلق عملی رضا‘ کیوں پوچھی جا رہی ہے‘ تاہم اکثریت کو اِس بات کی خوشی ہے کہ وہ ’ضلع ہزارہ‘ کی اُس جماعت کے رکن ہیں‘ جس کو سات افراد کے قتل اور ایک سو سے زائدافراد کے زخمی ہونے سے شروع ہوئی۔ ایبٹ آباد کے ’فوارہ چوک کو پولیس تشدد اور فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں ’’شہدأ چوک‘‘ کہا جاتا ہے ۔

قائد تحریک ہزارہ کا کہنا ہے کہ ’’اُن کی جدوجہد کسی ایک تنظیم‘ لسانی گروہ یا جماعت کے خلاف نہیں اور نہ نفرتوں کو بڑھا رہی ہے بلکہ ہزارہ کے لوگ محب وطن ہیں اور وہ پاکستان میں تصادم کی بجائے الگ صوبے کے قیام سے محبتوں اور وفاق پاکستان کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’خیبر پختونخوا کے پانچ اضلاع میں تحریک صوبہ ہزارہ شروع ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ قیام پاکستان کے موقع پر شمال مغربی سرحدی صوبہ میں ریفرنڈم کرایا گیا‘ اُس وقت 21 نشستیں کانگریس اور 15 مسلم لیگ کے پاس تھیں۔ اگر بات اکثریت کی ہوتی تو خیبر پختونخوا بھارت کے ساتھ جڑ جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اسمبلی کے اراکین کی اکثریت پر فیصلہ نہیں ہوا۔ عوام سے بذریعہ ریفرنڈم پوچھا گیا اور صرف ایک ضلع ہزارہ سے دو لاکھ 714 ووٹ پاکستان کے حق میں دیئے۔ اس مرحلے پر بھی ہم چاہتے ہیں کہ آئین میں درج طریقہ کار ہی کے مطابق ایگزیکٹو آڈر سے ہزارہ ڈویژن کے تمام علاقوں کو الگ صوبہ کا درجہ دیا جائے جہاں تریسٹھ برس سے محرومیوں نے مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔‘‘

ایبٹ آباد خیبر پختونخوا کا گرمائی دارالحکومت ہے۔ اہم حکومتی اور سیاسی شخصیات موسم گرما کے دوران یہیں قیام کرتی ہیں۔ گلیات و شمالی علاقہ جات کی سیر کرنے والے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد بھی اسی شہر سے گزر کر جاتی ہے۔ شاہراہ ریشم پر واقع یہ شہر اہم فوجی چھاؤنی اور تعلیمی اداروں کے لئے مشہور ہے۔ خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ شرح خواندگی اسی ضلع میں پائی جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں کے باسیوں کی مختلف ملکی مسائل کے بارے میں رائے ہمیشہ مختلف اور گہری رہی ہے۔ ایبٹ آباد اور گلیات کے دور دراز علاقوں میں شاید ہی کوئی دیوار یا کونہ ایسا ہو گا جہاں ’تحریک صوبہ ہزارہ‘ کی جدوجہد کو اُجاگر کرنے کے لئے ’وال چاکنگ‘ نہ کی گئی ہو اور یہی تحریک کی بڑی کامیابی قرار دی جاسکتی ہے کہ وہ اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں کامیابی سے لڑ رہے ہیں۔ ایبٹ آباد کا مرکزی بازار قومی اسمبلی کے حلقہ 17 اور صوبائی اسمبلی کی نشست 44 پر مشتمل ہے‘ جہاں ہر گلی اور میدان میں تحریک صوبہ ہزارہ کے تین رنگی (سفید‘ سرخ اور سبز) پرچم آویزاں ہیں۔ دکانداروں نے مہذب انداز میں ’صوبہ ہزارہ‘ کے دو الفاظ پر مشتمل اسٹکرز آویزاں کر رکھے ہیں اور کسی بھی شخص سے بات کی جائے تو آغاز کلام سے اختتام تک کسی نہ کسی صورت الگ صوبے کے حوالے سے دیرینہ مؤقف ضرور سننے کو ملتا ہے۔ کینٹ بازار چوک میں رکنیت سازی کیمپ میں بلال شاہ‘ نسیم گل خان‘ سردار ارسلان‘ سردار اسحاق‘ سردار صداقت‘ گل زیب‘ اسد خان تنولی‘ ہارون خان جدون اور کیمپ انچارج نصر اللہ خان جدون المعروف بھٹو کا جوش و جذبہ دیدنی تھا‘ کیمپ میں اسپیکرز کے ذریعے قومی ترانے بج رہے تھے اور ماحول کو پرجوش بنانے کے لئے ہر گزرنے والا شخص کہتا تھا ’’ایک ہی نعرہ‘‘ اور جواب دیا جاتا کہ ’’صوبہ ہزارہ‘‘۔ ’تحریک صوبہ ہزارہ‘ کے پرچم تلے شروع ہونے والی جدوجہد منظم نہیں لیکن وسائل کی کمی آڑے نہیں‘ ہر کوئی اپنی استطاعت کے حصہ ڈال رہا ہے اور عوام کا جوش و جذبہ دیکھ کر یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ ’تحریک‘ کا مستقبل درخشاں ہے۔ پرخلوص کارکن کسی بھی جماعت کا اثاثہ ہوتے اور تحریک صوبہ ہزارہ کے پاس مخلص کارکنوں کی کمی نہیں۔

انٹرنیٹ کی آزادی اور پابندیاں

ٹیگز

, ,


پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد دو کروڑ سے زائد ہے‘ جن کی مغربی ذرائع ابلاغ تک رسائی کو روکنے کی کوشش میں حکومتی ادارہ ایسی ’ویب سائٹس‘ پر پابندی عائد کر دیتا ہے‘ جن پر حکومت مخالف مندرجات نشر کئے جاتے ہیں۔ حال ہی میں ایک ایسی امریکی ویب سائٹ تک رسائی پر پابندی عائد کر دی گئی‘ جس پر پاکستان کے دفاعی بجٹ سے متعلق ایک تحریر شائع کی گئی تھی۔ امریکہ کے معروف جریدے ’رولنگ اسٹون‘ کی ویب سائٹ http://www.rollingstone.com پر ماٹ تعیبی (Matt Taibbi) نامی بلاگر نے امریکہ کے اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے اعدادوشمار کا سہارا لیتے ہوئے پاکستان کی دفاعی ضروریات‘ اخراجات اور ملک کی اقتصادی صورتحال سے متعلق تجزیہ نشر کیا۔ پاکستان حکومت کی جانب سے ’رولنگ اسٹون‘ پر عائد پابندی کا جواز مغربی معاشرے میں جنسی آزادی جیسے موضوعات اور اُن ’عریاں‘ تصاویر کو قرار دیا گیا ہے‘ جو ’رولنگ سٹون‘ کی ویب سائٹ کا حصہ ہیں تاہم پاکستان میں انٹرنیٹ کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے ایک غیرسرکاری ادارے ’بائٹس‘ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے عائد کردہ پابندی کا جواز محض بہانہ ہے کیونکہ ایسی کئی ویب سائٹس موجود ہیں جن پر عریاں و نیم عریاں تصاویر‘ فلمیں اور دیگر مواد موجود ہوتا ہے اور ایسی ویب سائٹس پر پابندی عائد نہیں کی گئی لیکن چونکہ ’رولنگ سٹون‘ کے ذریعے حکومت کی حکمت عملیوں پر تنقید کی گئی ہے تو اسے عوام کی پہنچ سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے ہے‘ جو درحقیقت ذرائع ابلاغ پر سنسر کی ایک بدترین مثال ہے۔‘‘

پاکستان میں انٹرنیٹ کے ذریعے معلومات تک رسائی کا عمل مکمل طور پر آزاد نہیں۔ سال دو ہزار چھ کے دوران بلاگنگ کی معروف ویب سائٹ ’بلاگ سپاٹ‘ پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی‘ جس کا استعمال کرتے ہوئے کئی افراد نے ڈنمارک کے کارٹونسٹ کی جانب سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے توہین آمیز خاکے نشر کئے گئے تھے۔ یہ پابندی کم و بیش ایک برس تک برقرار رکھی گئی تھی۔ اسی طرح سال دو ہزار دس کے دوران اعلیٰ عدلیہ نے ’پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن اَتھارٹی‘ کو حکم دیا تھا کہ وہ پاکستان میں فیس بک تک رسائی پر پابندی عائد کر دے کیونکہ اِس ویب سائٹ کے ذریعے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی توہین کی گئی تھی۔ سماجی رابطہ کاری کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ پر سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات اور بنگلہ دیش میں بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔ لاہور ہائی کورٹ میں اب بھی ایک درخواست زیرسماعت ہے‘ جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ فیس بک پر مستقل بنیادوں پر پابندی عائد کی جائے۔

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا (بشمول انٹرنیٹ) کے حوالے سے قواعد و ضوابط تشکیل دیئے گئے ہیں‘ جن کی بنیاد پر ایسی کسی ایک یا تمام ویب سائٹس پر پابندی عائد کی جا سکتی ہے‘ جن کے مندرجات ’’نظریہ پاکستان‘‘ کے خلاف ہوں یا جن کے مندرجات سے کسی نسلی‘ لسانی یا مذہبی و سیاسی گروہ کی دل آزاری ہوتی ہو۔ آزادی اظہار اور اِس سے جڑے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ حکومت کسی مکمل ویب سائٹ پر پابندی عائد کرنے کی بجائے اُس کے متنازعہ مندرجات پر پابندی عائد کرے کیونکہ بصورت دیگر انٹرنیٹ صارفین کی اکثریت کا مندرجات تک رسائی کا حق سلب ہو جاتا ہے۔

تصویر کہانی ۔۔۔ بائیو گیس کا فروغ‘ وقت کی ضرورت!

ٹیگز

, , , ,

پاکستان کے دیہی علاقوں میں توانائی کے حصول کا اہم اور بنیادی ذریعہ ’گوبر‘ ہے‘ جس میں ایک حصہ بھوسے کی آمیزش کر کے گوبر سے بنائے گئے تھالی نما گول ٹکڑوں کو دھوپ میں خشک کرنے کے لئے دیواروں پر چسپاں کر دیا جاتا ہے۔ صحت کے نکتہ نظر سے گوبر کے ان ٹکڑوں کی تیاری کے مراحل چونکہ ہاتھوں سے سرانجام دیئے جاتے ہیں اس لئے ان سے جڑے کئی مسئلے بھی ہیں جیسا کہ سانس کی بیماریاں یا نظام تنفس کی کمزوری اور کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کے اخراج کی وجہ سے ماحولیاتی آلودگی وغیرہ۔ گوبر کے خشک ٹکڑوں کے استعمال کی بجائے اگر ’بائیو گیس‘ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے تو اس سے زیادہ بہتر نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ صاف ستھری توانائی کے حصول کے ساتھ بائیو گیس پلانٹ سے اعلیٰ معیار کی کھاد بھی حاصل کی جا سکتی ہے لیکن چونکہ بائیو گیس منصوبے کے آغاز کے لئے زیادہ مالی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے حکومت کی سرپرستی کے بناء یہ جدید ٹیکنالوجی اختیار کرنے کا رجحان کم ہے۔

زرعی ماہرین کی جانب سے پیش کردہ اعدادوشمار اور محتاط اندازوں کے مطابق دیہی علاقوں میں 45 سے 50 فیصد توانائی کی ضروریات گوبر ہی سے پوری کی جا رہی ہیں اور اس کی وجہ سے کھیتوں کو قدرتی کھاد کی کمی رہتی ہے۔ زراعت کی ترقی کے حوالے سے حکومت گوبر کے زیادہ مفید استعمال کو ترقی دے کر دیہی علاقوں میں توانائی اور روزگار کے متبادل ذرائع متعارف کرا سکتی ہے۔

(شبیر حسین اِمام)

This slideshow requires JavaScript.

تیونس اور مصر میں انقلاب، تصویری جھلکیاں

ٹیگز

, ,

انقلاب مصر: اسلامی مشرق وسطی کے قیام کی جدوجہد
مصر کا عوامی انقلاب کامیابی کی اُس منزل کے قریب ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں

مصر میں عوامی انقلاب اب ایسے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے جہاں سے واپسی کی راہ ناممکن ہے یہ وہ حقیقت ہے جس کا برملا اظہار مصری حکومت کے مخالف سیاسی رہنما بھی کرنے لگے ہیں۔ اخوان المسلمین کے قائدین اور محمد البرادعی جیسے لیڈروں نے کہا ہے کہ ’’مصر کاعوامی انقلاب اب کامیابی کے بہت قریب ہے اور ہم جس منزل پر پہنچ گئے ہیں‘ وہاں سے واپسی نہیں ہوسکتی۔‘‘ مصرسے آمدہ اطلاعات کے مطابق دارالحکومت قاہرہ سمیت ملک کے دیگر بڑے شہروں میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ وقت جاری ہے اور ان میں شدت آ رہی ہے۔ مصر کے عوام نے صدرحسنی مبارک کی طرف سے کابینہ کی یکسر تبدیلی اور ساتھ ہی سخت دھمکی آمیز لب و لہجے میں بات چیت کو مسترد کردیا ہے اور وہ شاہراؤں پرتعینات فوجی ٹینکوں کی پرواہ کئے بغیر صدرحسنی مبارک کے استعفے تک اپنے مظاہرے جاری رکھنے میں انتہائی پرعزم دکھائی دے رہے ہیں۔ مصر کی صورتحال کے تناظر میں یہ اطلاعات بھی ہیں کہ صدرحسنی مبارک کی اہلیہ اور ان کے دو بیٹے مصر سے فرار ہو چکے ہیں جبکہ ایسی بھی خبریں بھی گردش میں ہیں کہ گذشتہ چند گھٹنوں میں مصر سے ایسی پینتالیس خصوصی پروازیں بیرون ملک گئی ہیں جن میں سوار مسافروں کے بارے میں جہاز رانی کے متعلقہ حکام کو بھی علم نہیں۔ مصر کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال نے امریکہ اور اسرائیل کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ ایک طرف امریکہ کے صدر باراک اوبامہ مصر کے صدر حسنی مبارک سے بذریعہ ٹیلی فون مسلسل رابطے میں ہیں اور دوسری طرف غاصب اسرائیلی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو‘ سعودی عرب کے فرمانرواء شاہ عبداللہ‘ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور کئی دیگر عالمی رہنماوں نے بھی صدر حسنی مبارک سے ٹیلی فون پر طویل گفتگو کی ہے مگر مصر کے عوامی انقلاب سے جس پر سب سے زیادہ خوف و لرزہ طاری ہے وہ غاصب اسرائیل ہے۔ اطلاعات کے مطابق مصری عوام کے احتجاجی مظاہروں اور انقلاب پر صہیونی حکام کی گہری نظر ہے۔ قاہرہ میں صہیونی حکومت کا سفارتخانہ بند ہوچکا ہے اور اس کے عملے کے افراد قاہرہ چھوڑ کرتل ابیب جا چکے ہیں۔ صہیونی حکومت کے ذرائع ابلاغ علاقے اور خاص طور پر مصرکے حالات پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ حسنی مبارک کے لئے ان کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔ صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو نے اپنی کابینہ کے وزراء کو خبردار کیا ہے کہ وہ مصرکے حالات کے بارے میں کھلے عام کسی بھی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کریں اور نہ اس بارے میں اپنی آراء یا تجزیہ پیش کریں۔ ایسا لگتا ہے کہ نتنیاہو نے یہ انتباہ اپنے ایک وزیر کے اس بیان کے بعد دیا ہے کہ جس میں اس نے کہا تھا کہ مصر میں حسنی مبارک کی سرنگونی کو لے کر اسرائیل میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔

صہیونی حکومت کے وزیر اعظم اپنے وزیروں کو مصر کے حالات کے بارے میں تبصرہ کرنے سے منع کریں یا نہ کریں یہ بات دنیا جانتی ہے کہ مصرمیں حکومت کی تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ علاقے میں اسرائیل کا ایک بڑا پشت پناہ ختم ہوجائے گا۔ ایسے میں غاصب اسرائیل کی بنیادیں جو پہلے ہی متزلزل ہوچکی تھیں مزید کمزور ہونا یقینی امر ہے اور خطے میں اس کی مشکلات بڑھ جائیں گی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ‘ اسرائیل اور اس کے یورپی اور علاقائی اتحادیوں کی پہلی کوشش تو یہی ہے کہ جیسے بھی ہو صدر حسنی مبارک کی سیاسی زندگی کو بچایا جائے اور اگر صدر مبارک کو جانا ہی ہے تو ان کے بعد مصر میں کوئی ایسا نظام یا ایسے ہم خیال افراد کو برسر اقتدار لایا جائے جو خطے میں اسرائیلی اور امریکی مفادات کا تحفظ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ عمر سلیمان کو ملک کا نائب صدر بنادیا جانا اور پھر محمد البرادعی کو ایک عوامی لیڈر کے طور پر جن کا کوئی سیاسی پس منظر نہیں ہے پیش کیا جانا انہی سازشوں کا حصہ ہے۔

اس میں شک نہیں کہ مصر کے عوام کا انقلاب صرف ’عوامی احتجاجی تحریک‘ نہیں اس میں اسلامی رنگ اور جداگانہ تشخص اور شناخت حاصل کرنے کا جذبہ پورے طورپر نمایاں ہے۔ ٹینکوں کی موجودگی میں سڑکوں پر اقامہ نماز اور اللہ اکبر کے نعرے یہ سب اس بات کی علامتہیں کہ عوام نے محض مادی بنیادوں پریہ تحریک نہیں چلائی اورجب یہ تحریک مادی بنیادوں پر نہیں تو وہ ایسے کسی بھی مادی عناصر کے ہاتھ میں مصر کی باگ ڈور نہیں دیں گے جو ان کی امنگوں اور آرزؤں کے خلاف اقدامات سرانجام دیں۔ یہی وجہ ہے کہ تیونس کے بعد جس طرح سے مصر میں عوامی اور حریت پسندانہ انقلاب رونما ہورہا ہے اس کے پیش نظر مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ انقلاب اب مصرتک ہی محدود نہیں رہے گا۔ حقیقت یہی ہے کہ مصر سے اٹھنے والے انقلاب کا پیغام پورے علاقے پر محیط ہوچکا ہے اور امریکہ و اسرائیل جس چیز سے ڈر رہے ہیں وہ یہی پیغام ہے۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جو یقینی طور پر تاریخ کا رخ موڑ دے گا اسی لئے امریکہ اور اسرائیل اور ان کی حکومتوں کی ناکام سازشیں جاری ہیں مگر اب تو بہت دیر ہوچکی ہے اور نہ صرف مصرکی سطح پر بلکہ پورے مشرق وسطی کی سطح پر دیر اور بہت دیر ہوچکی ہے۔ اب امریکی نہیں بلکہ ایک اسلامی مشرق وسطی وجود میں آیا ہی چاہتا ہے جو سامراجی عزائم کا قبرستان ثابت ہوگا۔

This slideshow requires JavaScript.

آٹھ سالہ بچی کا مصر کے صدر کو پیغام

ٹیگز

, ,

آمرانہ حکومت کے خلاف تیونس سے اٹھنے والی عوامی غم و غصے کی لہر مصر جا پہنچی ہے جہاں کے صدر حسنی مبارک کا 30 سالہ آمرانہ دور حکومت عوامی تنقید کی زد پر ہے اور مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پرتشدد واقعات جاری ہیں۔

حکومت مخالف جذبات کو مشتہر ہونے سے روکنے کے لئے انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروسیز پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ کئی علاقوں میں موبائل فون سروسیز بھی بند کر دی گئیں ہیں۔

اِس صورتحال پر سعودی عرب کی آٹھ سالہ لڑکی نے صدر حسنی مبارک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اقتدار سے الگ ہو کر عوام کے جذبات کا احترام کریں۔ امن قائم کریں اور موجودہ انتشاری کیفیت کا خاتمہ کریں۔ جوجو نامی لڑکی کا یہ پیغام یوٹیوب پر جاری ہوا ہے۔ جسے درج ذیل لنک سے دیکھا جا سکتا ہے۔

جوجو نامی لڑکی کے معصوم تاثرات اور پیغام صرف مصر هی کے لئے نهیں بلکه دیگر عرب ممالک کے بادشاهوں کے لئے بھی لمحه فکریه هیں جو اقتدار سے لپٹ کر بیٹھے هیںْ


ایک پیغام پوری عرب دنیا کے لئے

مایوسی کفر هے لیکن

تمہیں خبر دینا ہے کہ یہاں سب چپ ہیں۔
شاید بہت دیر رونے کے بعد ایسی ہی خاموشی ہو جایا کرتی ہے۔
غم زدہ ہجوم میں دھکم پیل کر کے ’خوشیوں کی کھڑکی‘ تک ہاتھ پہنچانے کی مشقت سے گزرنے والوں کو کیا ملتا ہے۔

ایک ایسے معاشرے میں جہاں قابلیت اور اہلیت جانچنے کا کوئی معیار ہی موجود نہ ہو۔ جہاں خوشامد کرنے والوں کے ’وارے نیارے‘ اور محنت پر یقین کرنے والوں کے لئے مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہوں۔

جہاں افراد اور خاندانوں سے محبت کا اظہار کرنے والے مصنوعی یا حقیقی تعلق داری زیادہ کام آتی ہو اور پیشہ ورانہ اصولوں کی پاسداری کوئی معنی نہ رکھتی ہو۔

ایک ایسا معاشرہ جس میں بہت سا پیسہ آپ کے تمام عیب چھپا دے اور مالی اسباب کی کمی آپ کی گردن کے گرد پھندا بن جائے تو ایسی صورت میں تخلیقی قوت کہاں سے‘ کیسے اور کیونکر اپنا کام کر سکتی ہے۔

اللہ ہمیں آسانیاں پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
حد سے زیادہ مایوس
تمہارا اِمام
انتیس جنوری دو ہزار گیارہ

غیر سیاسی بچوں کا سیاسی استعمال

ٹیگز

, , ,

لمحه فکریه هے که سیاسی اداکار سکول بچوں کو اپنی نمود و نمائش اور پروگراموں کی رونقیں بڑھانے کے لئے استعمال کرتے هیںْ منسلکه تصویر پشاور کے نشتر هال میں هوئی تقریب کے دوران لی گئی جس میں صوبائی وزیر سمیت پاکستان پیپلز پارٹی کے کئی جیالے کردار تالیاں بجا کر دلی جذبات کا اطهار کر رهے هیں اور بچے ٹیبلو پیش کر کے خود کو مصروف کئے هوئے هیںْ سرکاری تقریبات میں سکول بچوں کا استعمال غیر صحت مندانه رجحان هے، جس کی حوصله شکنی هونی چاهئےْ

غیر سیاسی بچوں کا سیاسی استعمال